استاد کا درجہ

استاد کا درجہ بغیر کسی شک کے اعلیٰ ترین درجات کی صف بندی میں شامل کیا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معاشرے میں استاد موجود ہے؟ اگر موجود ہے تو تربیت کے تمام مرحلے تعلیم کے ساتھ ادا ہوتے ہیں؟ اور اگر تربیت و تعلیم کا حق ادا ہوتاہے تو ادب کے قرینے بھی طے ہوتے ہونگے؟ اگر ادب کے قرینے طے ہوچکے ہیں تو ہم ایک عملی، حقیقت پسند، تنقید کو برداشت کرنے والی، اپنی تہذیب وتمدن سے پیار کرنے والی اور اسلامی روح سے سرشار قوم بن چکے ہونگے؟ اگر ایسا نہیں تو دیکھنا پڑے گا کہ وہ استاد جس نے قوم کو بہترین تربیت یافتہ مسقبل  کے ماں اور باپ مہیا کرنے تھے کہیں خود تو تربیت سے ناآشنا نہیں ۔۔۔صبح بخیر

Kindly like and share it plz

Post a Comment

Thanks and like to share it